9 جون 2017 - 15:56
کفار اور منافقین، باطل کے سرغنوں سے محبت کرتے ہیں

اب پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ افراد جو یورپی اور امریکی کفار کے ساتھ ہمرنگ و یک رنگ بننے کی کوشش کرتے ہیں، وہ فیشن جو وہ پیش کرتے ہیں، بلا چون و چرا قبول کرتے ہیں، جو قوانین وہ وضع کرتے ہیں یہ کسی مخالفت کے بغیر تسلیم کرتے ہیں، اور ان کے سیاسی مکاتب کے شیدائی بنتے ہیں، کیا ان لوگوں سے مختلف ہیں جو فرعون کو خدا سمجھتے تھے؟!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّهِ أَندَاداً يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللّهِ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبّاً لِّلّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلّهِ جَمِيعاً وَأَنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ (٭) إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الأَسْبَابُ (٭) وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّؤُواْ مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ (٭) (سورہ بقرہ آیات 165 تا 167)
ترجمہ: اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا اس کے بہت سے ہمسر قرار دیتے ہیں۔ اور ان سے اللہ کی سی محبت کرتے ہیں، مگر جو صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کی محبت کہیں بڑھ کر رکھتے ہیں اور کاش یہ ظالم اس موقع پر کے جب عذاب کو دیکھ رہے ہوں گے پیش نظر رکھتے کہ تمام طاقت بس اللہ کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے (٭) جب پیشوا لوگ ان سے جنہوں نے پیروی کی تھی اظہار بے تعلق کرتے ہوں گے اور عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے ہو گا۔ اور تمام رشتے ان سے قطع ہو چکے ہوں گے (٭) اور وہ جنہوں نے پیروی کی تھی کہتے ہوں گے کہ کاش ایک دفعہ ہمیں واپسی کا موقع مل جاتا تو ہم ان سے یونہی الگ ہو جاتے جیسے یہ ہم سے الگ ہو گئے۔ اس طرح اللہ ان کے کرتوتوں کو غم و غصہ کی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہو گا۔ اور اب وہ آگ سے نکلنے نہ پائیں گے (٭)
یہ آیات کریمہ ـ جو آیات توحید [وَإِلَـهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَّ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (163، سورہ بقرہ) ترجمہ: اور تمہارا خدا بس ایک خدا ہے سوا اس ہمہ گیر فیض والے بڑے مہربان کے کوئی خدا نہیں ہے] کے بعد مندرج ہیں، ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو صحیح راستے سے منحرف ہوئے ہیں اور جعلی معبودوں کی طرف مائل ہوئے ہیں [گوکہ بظاہر وہ دینداری کے دعویدار ہیں اور حتی کہ اپنے سوا کسی کو بھی مسلمان اور یکتاپرست نہیں سمجھتے]۔
ہوسکتا ہے کہ ہمسر قرار دینے سے مراد یہ ہو کہ کفار بعض لوگوں کو زمین میں خالقیت میں توحید [اور خالقیت میں یکتا پرستی] کے طور پر اخذ کرلیتے ہیں، لیکن اگلی آیات کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ یہ آیات بھی سابقہ آیات نیز قرآن کی زيادہ تر توحیدی آیات کی طرح، خالقیت میں توحید کے مسئلے کو بیان نہيں کرتیں، بلکہ تشریعی اور تکوینی ربوبیت اور الوہیت میں توحید کو بیان کرتی ہیں۔
چنانچہ یہاں شرک اور انداد اور ہمسروں کے اتخاذ [اور کسی شیئے یا فرد کو اللہ کا ہمسر قرار دینے] سے مراد یہ ہے کہ بعض لوگ پرستش و بندگی اور اطاعت میں کچھ افراد کو اللہ کا ہمسر قرار دیتے ہیں اور ان سے اس قدر محبت کرتے ہیں جتنی کہ انہیں اللہ سے محبت کرنا چاہئے۔ ان لوگوں کے مقابلے میں مؤمنین کی محبت خدا سے ہر چیز سے زیادہ شدید ہے۔ مشرکین کے درمیان کچھ لوگ وہ ہیں جو پیروکار ہیں اور کچھ لوگ وہ ہیں جو راہبر و پیشوا بنے بیٹھے ہیں اور یہ دونوں ظالم اور اہل ستم ہیں اور دونوں نے اپنی حد سے تجاوز کیا ہے۔
آخرالزمان کے جھوٹے معبود غیر اللہ کی محبت اور غیر اللہ کی پرستش، عصری اور زمینی حالات کے پیش نظر، مختلف قسم کے جھوٹے معبودوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
ہمارے زمانے میں ـ جو کہ آخرالزمان کا دور ہے ـ مسائل فردی صورت سے اجتماعی صورت میں بدل گئے ہیں، اور آج سے پہلے کسی فرد کی پرستش ہوتی تھی ـ [اور ایک شخص فرعون و نمرود کی صورت میں ابھرتا تھا] ـ تو آج ایک معاشرے اور ایک تہذیب و ثقافت کی پرستش ہوتی ہے۔
احساس کمتری [inferiority complex] بہت سے پسماندہ ممالک میں نمایاں ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی ممالک اپنے آپ کو برتر و اعلی تر سمجھتے ہیں [اور احساس برتری superiority complex میں مبتلا ہیں] اور سائنس، کام کاج اور طاقت کے لحاظ سے اپنے آپ کو ان کے ساتھ قابل قیاس نہیں سمجھتے؛ چنانچہ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں یہ [پسماندہ ممالک] بھی بلا چون و چرا قبول کرتے ہیں؛ ان [برتر کہلوانے والے ممالک] کی قوانین کو مثالی (ideal) سمجھتے ہیں، ان کے پیش کردہ نظریات کو بلا چون و چرا تسلیم کرتے ہیں، اور ان کے مسالک اور روشوں کو تیزرفتاری سے قبول کرتے ہیں۔
یہ اندھادھند اطاعت بھی ایک قسم کی پرستش ہے اور ان طاقتوں کو برتر طاقتیں ماننا خدا کے ساتھ شرک اور خدا کے لئے ہمسر اور برابردار قوتیں قرار دینے کے مترادف ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کبھی ہمسر و برابردار قرار دینا پتھر اور لکڑی کی صورت میں ہے، کبھی جن اور ملائکہ کی صورت میں اور کبھی خاص قسم کے معاشروں اور تہذیبوں کی صورت میں ہے۔
کیا مسلمانوں کا یہ عمل درست ہے؟
فرمان ربّ متعال ہے:
"لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ" (سورہ لقمان، آیت 13)
ترجمہ: اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
ایک دن ایسا بھی آئے گا جب راہنماؤں اور ان کے پیروکاروں کے تمام اعمال اور سرگرمیاں ان کے لئے ایک حسرت میں بدل جائیں گے اور سب سمجھ لیں گے کہ سعادت و خوشبختی [اور مثالی معاشرے کے قیام] کی راہ میں ان کی تمام تر محنتیں اور مشقتیں درحقیقت شقاوت اور بدبختی کا سبب تھیں [اور وہ جو کٹھن راستے طے کرچکے ہيں سب کے سب بدبختی، گمراہی اور تباہی و بربادی کی طرف جاتے تھے]۔ یہ وہ دن ہوگا جب قائدین اپنے پیروکاروں سے اور پیروکار اپنے قائدین سے بیزاری و برائت کا اعلان کریں گے۔ قائدین اپنے پیروکاروں کو بغیر سرپرست کے چھوڑ دیں گے اور ان سے فرار کریں گے اور پیروکار بھی ـ جو شدت سے غضبناک ہوگے ہیں، کیونکہ وہ دنیا بیزاری کے اعلان و اظہار کی جگہ نہیں ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں:
"وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّؤُواْ مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ" (سورہ بقرہ، آیت 167)
ترجمہ: اور وہ جنہوں نے پیروی کی تھی کہتے ہوں گے کہ کاش ایک دفعہ ہمیں واپسی کا موقع مل جاتا تو ہم ان سے یونہی الگ ہو جاتے جیسے یہ ہم سے الگ ہو گئے۔ اس طرح اللہ ان کے کرتوتوں کو غم و غصے [اور حسرت و افسوس] کی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہو گا۔ اور اب وہ آگ سے نکلنے نہ پائیں گے۔
یعنی وہ دنیا میں پلٹنے کی خواہش کریں گے تا کہ ان سے برائت و بیزآری کا اظہار کریں جس طرح کہ ان زعیموں نے ان سے بیزاری کا اعلان کیا تھا؛ انجام کار یہ کہ یہ دونوں گروہ ہونگے دوزخ میں، اور ان میں سے کوئی بھی نکل نہیں پائے گا۔
اب پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ افراد جو یورپی اور امریکی کفار کے ساتھ ہمرنگ و یک رنگ بننے کی کوشش کرتے ہیں، وہ فیشن جو وہ پیش کرتے ہیں، بلا چون و چرا قبول کرتے ہیں، جو قوانین وہ وضع کرتے ہیں یہ کسی مخالفت کے بغیر تسلیم کرتے ہیں، اور ان کے سیاسی مکاتب کے شیدائی بنتے ہیں، کیا ان لوگوں سے مختلف ہیں جو فرعون کو خدا سمجھتے تھے؟!
جب ان لوگوں پر تنقید ہوتی ہے تو فورا کہہ دیتے ہیں کہ "حق وہی ہے جو مغربی کہتے ہیں، اور جو کچھ قرآن میں آیا ہے وہ تاریخ کے بعض مراحل سے تعلق رکھتا ہے اور عصر حاضر  سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے!"، یہ اس آیت کریمہ کا مصداق ہیں جہاں ارشاد ہوتا ہے:
"وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّهِ أَندَاداً يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللّهِ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبّاً لِّلّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلّهِ جَمِيعاً وَأَنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ"۔ (سورہ بقرہ، آیت 165)
ترجمہ: اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا اس کے بہت سے ہمسر قرار دیتے ہیں۔ اور ان سے اللہ کی سی محبت کرتے ہیں، مگر جو صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کی محبت کہیں بڑھ کر رکھتے ہیں اور کاش یہ ظالم اس موقع پر کے جب عذاب کو دیکھ رہے ہوں گے پیش نظر رکھتے کہ تمام طاقت بس اللہ کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔
وہ ان قوتوں سے خدا کی طرح محبت کرتے ہیں جو انھوں نے اللہ کے برابر قرار دی ہیں۔
انداد اور برابردار یا ہمسر اخد کرنا در حقیقت اتباع اور پیروی ہی ہے۔ جب باطل کے سرغنوں کے پیروکار عذاب پروردگار کو دیکھتے ہیں، تو اپنے باطل سرغنوں، زعیموں، قائدین راہنماؤں سے برائت کا اعلان کرتے ہیں۔
یہ راہنما یا سرغنے جب قیامت کے دن دیکھتے ہیں کہ ان کا انجام ابدی عذاب کے سوا کچھ نہیں ہے تو ان کے پیروکار آگے بڑھیں گے اور ان سے پوچھیں گے: بتاؤ ہمارا انجام کیا ہوا؟ ہم نے کس قدر تمہارے پیچھے زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگائے، کس قدر تمہاری باتوں پر شور شرابہ کیا، تالیاں بجائیں، تمہاری تصویریں شائع کیں، تمہارے مجسمے بنائے، تمہاری تصویروں کے بوسے لئے، تمہاری تصویریں دیواروں پر نصب کرلیں، ہماری ان سب زحمتوں اور محنتوں کی پاداش کیا ہے؟ تو وہ پلٹ کر کہیں گے: ہم تو حود بھی اپنے انجام سے بےخبر تھے!! یہ وہ مرحلہ ہے کہ ان کے درمیان دو طرفہ رشتے ٹوٹ جائيں گے اور زعیم و پیروکار کے درمیان تعلق ختم ہوکر رہے گا۔
ان دن البتہ ابتداء میں کفر و گمراہی کے پیشواؤں کو جہنم لے جایا جائے گا اور اس کے بعد ان کے پیروکاروں کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔
ارشاد ربانی ہے:
"يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ"؛ (سورہ ہود، آیت 98)
ترجمہ:  وہ اپنی قوم کی قیادت کرے گا قیامت کے دن اور اس طرح انہیں دوزخ کی آگ میں پہنچا دے گا۔ کیا بری ہو گی یہ منزل جہاں وارد ہوا جائے گا۔
ان کے پیروکار، اپنے مفادات اور خوشبختی کی وجہ سے اپنے قائدین کی پرستش کرتے تھے، تا کہ وہ کچھ بوجھ ان کے کندھوں سے اتا دیں۔
اب اگر ان قائدین نے اس دنیا میں اپنے ان پیروکاروں کے لئے کوئی کام کیا ہو تو اللہ کی طرف کی آزمائش کی بنا پر ہے، اور محض اللہ کے اذن سے یہ اختیار ان کے ان قائدین کو منتقل ہوچکا تھا؛ لیکن آخرت میں انہيں معلوم ہوجائے گا بہت بڑی خطا کے مرتکب ہوئے ہیں۔
سورہ بقرہ کی آیات 165 تا 167 میں لفظ عذاب تین بار مسلسل دہرایا گیا ہے اور ایک جگہ اللہ کے شدید العذاب ہونے کا وصف بیا ہوا ہے۔
خدا کی عدم اطاعت، اور اس کے احکام و اوامر کی پیروی نہ کرنا، انسان کو سعادت سے محروم کرکے ابدی عذاب میں مبتلا کرے گا۔
اس کام کا نقصان صرف دنیاوی سعادت سے محرومی نہیں ہے بلکہ یہ شدید ترین اخروی عذاب پر بھی منتج ہوتا ہے۔
اگلا نکتہ یہ ہے کہ جب پیروکار، اپنی پیروی کی حقیقت کو ـ جو اللہ کا قہر و عذاب ہے ـ دیکھتے ہیں، کہتے ہیں: کاش ہم دنیا کی طرف پلٹ جاتے تا کہ اپنے راہنماؤں سے برائت و بیزاری کا اظہار کرتے!
قیامت کا دن عجیب قسم کا میدان ہے، جو شخص ایک عمر کسی کی پیروی کرتا رہا ہے اس لئے کہ اسے سعادت و کامیابی سے ہمکنار کردے، اچانک ابدی عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے؛ میں یہاں زندہ مثالیں نہيں لا سکتا لیکن آپ اس مثال کو اپنے ذہن میں مجسم کرسکتے ہیں کہ "ایک شخص کسی کے عشق میں ایک عمر محنت کرتا ہے اور اس کے عشق میں زندگی بسر کرتا ہے؛ اس کے لئے رقم فراہم کرتا ہے، اس کے لئے اخراجات اٹھاتا ہے؛ راتوں کو اس کی یاد میں بستر پر گرجتا ہے اور صبح کو اس کی یاد میں جاگ اٹھتا ہے، اپنے کام کاج کے وقت اپنے رفقائے کار کے ساتھ اسی کے بارے میں بات چیت کرتا ہے، اور اپنے جیسے افراد کو اس کی پیروی پر آمادہ کرتا ہے، اس کے مسلک اور اس کی خواہش کی پیروی کرتا ہے، اس کے مقاصد کے حصول میں اپنے وجود تک کو نچھاور کرتا ہے، ایک عمر اس کی پرستش کرتا ہے [اور جو کچھ اسے لئے خدا کے لئے کرنا چاہئے تھا، وہ سب اس شخص کے لئے انجام دیتا ہے تاہم] صرف خدا کا نام اس پر نہیں رکھتا؛ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ حالات کروٹ بدلتے ہیں اور جناب ایک حالت [دنیاوی حیات] سے دوسری حالت [بعد از موت کی حالت] میں منتقل ہوجاتا ہے، اس شیدائی انسان کی آنکھیں اس دنیا سے بند ہوکر دنیائے آخرت کی طرف کھل جاتی ہیں، اور اچانک سمجھ لیتا ہے کہ اس نے اپنے عمر کے وہ تمام ایام و لمحات درحقیقت نیست و نابود کردیئے ہیں جن میں وہ اللہ کے سوا کسی اور کا شیدائی بنا تھا اور اس کی پیروی کرتا رہا تھا، اور اس کی عمر کے تمام لمحات گھاٹے کے لمحات تھے، اور اب حسرت و افسوس کے ایام و لمحات ہیں:
ارشاد ہوتا ہے:
"كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ"، (سورہ بقرہ، آیت 167)
ترجمہ: اس طرح اللہ ان کے کرتوتوں کو غم و غصے [اور حسرت و افسوس] کی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہو گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماخوذ از: کتاب "آفتاب ولایت"، آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰